واشنگٹن،23؍اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ڈیموکریٹک جماعت کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے کہ انھیں اب پرواہ نہیں کہ ان کے حریف رپبلکن پارٹی کے ڈونلڈ ٹرمپ کیا کہتے ہیں بلکہ ان کی توجہ مسائل پر مرکوز ہوگی۔ہلیری کلنٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ سخت جملوں کے تبادلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ان کے ساتھ ساڑھے چار گھنٹے بحث کی ہے، میں اب ان کی باتوں کا جواب دینے کے بارے میں سوچتی بھی نہیں۔یہ بات انھوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران طیارے میں سوار صحافیوں کو بتائی۔امریکی صدارتی انتخاب میں صرف 16روز باقی ہیں اور زیادہ تر توجہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مہم کے ساتھ جڑے تنازعات پر مرکوز ہیں۔ڈونالڈ ٹرمپ نے سنیچر کے روز ایک مرتبہ پھر اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ جیسے ہی صدراتی انتخاب کے لیے جاری ان کی مہم کا اختتام ہوگا وہ ان تمام خواتین کے خلاف مقدمہ کریں گے جنھوں نے ان پر جنسی طور پر ہراساں کرنے یا غیر مناسب رویے کا الزام لگایا۔ہلیری کلنٹن اس وقت رائے عامہ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ سے آگے ہیں تاہم حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ اس فرق کو کم کر کے تقریباً چار فیصد پر لے آئے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان پر الزام لگانے والوں کے خلاف مقدمہ کرنے بارے میں جب ہلیری کلنٹن سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کی توجہ اب دیگر ڈیموکریٹس کے انتخاب کا جانب تبدیل ہوگئی ہے۔ہلیری کا کہنا تھا کہ ٹرمپ جو چاہیں کہہ سکتے ہیں۔ وہ اپنی مہم اپنی مرضی کے مطابق چلا سکتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میں یہ سب امریکی عوام پر چھوڑتی ہوں کے وہ ہماری اور ٹرمپ کی پیش کش میں سے کس کا انتخاب کرتے ہیں۔پٹسبرگ میں خطاب کرتے ہوئے ہلیری کلنٹن نے امریکیوں سے متحد ہونے کا کہا۔ان کا کہنا تھا کہ میں جانتی ہوں کے امریکی عوام کو ایسے صدر کی ضرورت ہے جو ان کی پروا کرے، ان کی بات سنے اور میں ان کی صدر بننا چاہتی ہوں۔